14 نومبر 2011 - 20:30

روس اور چين نے ايران کے ايٹمي پروگرام کے بارے ميں آئي اے اي اے کے سربراہ کي رپورٹ پر تنقيد کرتے ہوئے ، ايران پر نئي پابندياں لگائے جانے کي مخالفت کي ہے-

ابنا: روس کے وزير خارجہ سرگئي لاؤروف نے ايران کے پر امن ايٹمي پروگرام کے بارے ميں آئي اے اي اے کي رپورٹ پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ ميں کوئي نئي بات نہيں ہے -

سرگئ لاؤروف نے صحافيوں سے گفتگو ميں کہا کہ آئي اے اي اے کي رپورٹ ميں اس بات کا کوئي دستاويزي ثبوت پيش نہيں کيا گيا ہے کہ تہران ايٹمي ہتھيار بنانے کے پروگرام پر عمل کررہا ہے - انہوں نے کہا کہ ايسا لگتا ہے کہ اس رپورٹ کا مقصد يہ ہے کہ ايران کے خلاف نئي پابندياں لگائي جائيں - روسي وزير خارجہ نے ايران پر نئي پابندياں لگانے کي مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ايران کے خلاف مغرب کي پابندياں بے نتيجہ رہي ہيں - پريس ٹي وي کے مطابق چين کي حکومت نے بھي ايران پر دباؤ ڈالنے کے لئے نئي پابندياں لگانے کي مخالفت کي ہے -اس رپورٹ کے مطابق چيني وزارت خارجہ کے ترجمان ليو وي مين نے صحافيوں سے گفتگو ميں کہا ہے کہ ان کے ِخيال ميں ايران پر دباؤ ڈالنے کا کوئي نتيجہ برآمد نہيں ہوگا- انہوں نے کہا کہ چين سمجھتا ہے کہ اس مسئلے کو صرف مذاکرات کے ذريعے حل کيا جاسکتا ہے -

ياد رہے کہ آئي اے اي اے کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے بورڈ آف گورنرس کو پيش کي گئي اپني رپورٹ ميں ايران کے ايٹمي پروگرام کے بارے ميں امريکا اور صيہوني حکومت کے بے بنياد دعووں کوشامل کيا ہے - ايران نے اس رپورٹ کو غير متوازن قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ يہ رپورٹ سياسي محرکات کے تحت تيار کي گئي ہے - ايران نے بارہا اس بات پر زور ديا ہے کہ اس کا ايٹمي پروگرام صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے - ...........

/169